ٹوبگے نے کہا ، "ہمارے پاس بھوٹان میں ملازمتیں ہیں لیکن وہ ان اجرت کے خلاف مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں جو وہ ترقی یافتہ ممالک میں کہیں اور کما سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جب حکومت فیصلہ کرے گی تب ہی ریگولیٹری فریم ورک بنے گا جبکہ قائمہ کمیٹی خزانہ نے کرپٹو کونسل کے چیئرمین اور ارکان کو طلب کرکے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی کاغذی یا دھاتی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیاکے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اس کا شرعی حکم جاننے کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علما اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں حرمت کا فتوی دیتے ہیں تو علماء دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتوی دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے تو علماء کو ہدف تنقید بنایا جاتایہ رویہ قطعا غیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اخطا فلہ أَجْرٍ – یعنی : جب فیصلہ کرنے والا بٹ کوائن کی قیمت کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب لتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک سولانا ٹوکنز ثواب ( اپنی محنت کا ) ملتا ہے۔ غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدف تنقید بنایا جائے ۔
یہ تعداد اس وقت زیادہ ہو گی جب آپ ایکسچینجز کے پاس رکھے ہوئے سکوں پر غور کریں گے، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر عام لوگوں کی ملکیت ہیں۔
یہ کرنسیاں اداروں کی طرف سے بنائی جاتی تھیں۔ وہی ان کا نظام سنبھالتے تھے لیکن ان میں چند خرابیاں تھیں ۔ مثلاً : اداروں کا دیوالیہ ہو جانا یا صارفین کی رقم لے کر ادراے کا غائب ہو جانا یا مخصوص ممالک کی طرف سے قانونی مسائل کا ہونا۔ ان مسائل کےباعث یہ کرنسیاں زیادہ نہ چل سکیں ۔
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن منشیات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ پر ہنس چکے ہیں۔
سامان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مقدار اور جنس معلوم ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو خرید وفروخت کے معاملے میں جہالت پائی جائے گی جس سے شریعت مطہرہ نے روکا ہے۔ (۱۳)
چند مشہور کرنسیوں ( کوائنز ) کا اجمالی ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی اور ہارڈ منی کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ کرپٹو میں متعدد افادیتیں، یا اضافی فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کسی ایونٹ کے ٹکٹ یا کسی کمپنی میں حصہ داری کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
جہلم میں محمد علی مرزا کی ’اکیڈمی پر فائرنگ:‘ ایک مبینہ حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی
امریکہ ایران مذاکرات: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک معطل
سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟